Tajdar-e-Haram Songtext
von Atif Aslam
Tajdar-e-Haram Songtext
قسمت میں میری چین سے جینا لکھ دے
ڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے
جنت بھی گوارا ہے مگر میرے لیے
اے کاتبِ تقدیر مدینہ لکھ دے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم
تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم
ہم غریبوں کے دن بھی سَنور جائیں گے
حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں؟
حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں؟
آپ کے در سے خالی اگر جائیں گے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
کوئی اپنا نہیں، غم کے مارے ہیں ہم
کوئی اپنا نہیں، غم کے مارے ہیں ہم
آپ کے در پہ فریاد لائے ہیں ہم
ہو نگاہِ کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم
ہو نگاہِ کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم
آپ کا نام لے-لے کے مر جائیں گے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
کیا تم سے کہوں اے عرب کے کنور
تم جانت ہو من کی بتیاں
در فرقت تو آئے امّی لقب
کاٹے نہ کٹتی اب رتیاں
توری پریت میں سدھ-بدھ سب بسری
کب تک رہے گی یہ بے خبری
گاہے بہ فگن دزدیدہ نظر
کبھی سن بھی تو لو ہماری بتیاں
آپ کے در سے کوئی نہ خالی گیا
(آپ کے در سے کوئی نہ خالی گیا)
آپ کے در سے کوئی نہ خالی گیا
اپنے دامن کو بھر کے سوالی گیا
(ہوو، اپنے دامن کو بھر کے سوالی گیا)
ہو حبیبِ حزیں...
ہو حبیبِ حزیں پر بھی آقا نظر
ورنہ اوراقِ ہستی بکھر جائیں گے
(ہو حبیبِ حزیں پر بھی آقا نظر)
(ورنہ اوراقِ ہستی بکھر جائیں گے)
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
مے کشو آؤ-آؤ، مدینے چلیں
(مدینے چلیں، مدینے چلیں، مدینے چلیں)
مے کشو آؤ-آؤ، مدینے چلیں
(مدینے چلیں، مدینے چلیں، مدینے چلیں)
آؤ مدینے چلیں، آؤ مدینے چلیں
اسی مہینے چلیں، آؤ مدینے چلیں
(آؤ مدینے چلیں، آؤ مدینے چلیں)
(اسی مہینے چلیں، آؤ مدینے چلیں)
تجلّیوں کی عجب ہے فضا مدینے میں
(تجلّیوں کی عجب ہے فضا مدینے میں)
نگاہِ شوق کی ہے انتہا مدینے میں
(نگاہِ شوق کی ہے انتہا مدینے میں)
غمِ حیات نہ خوفِ قضا مدینے میں
(غمِ حیات نہ خوفِ قضا مدینے میں)
نمازِ عشق کریں گے ادا مدینے میں
(نمازِ عشق کریں گے ادا مدینے میں)
براہِ راست ہے راہِ خدا مدینے میں
آؤ مدینے چلیں، آؤ مدینے چلیں
اسی مہینے چلیں، آؤ مدینے چلیں
مے کشو آؤ-آؤ، مدینے چلیں
(مے کشو آؤ-آؤ، مدینے چلیں)
دستِ ثاقیِ کوثر سے پینے چلیں
(دستِ ثاقیِ کوثر سے پینے چلیں)
یاد رکھو اگر، یاد رکھو اگر...
(یاد رکھو اگر، یاد رکھو اگر)
اٹھ گئی اک نظر
جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے
(یاد رکھو اگر، اٹھ گئی اک نظر)
وہ نظر، جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
خوفِ طوفان ہے بجلیوں کا ہے ڈر
(خوفِ طوفان ہے بجلیوں کا ہے ڈر)
سخت مشکل ہے آقا کدھر جائیں ہم؟
(سخت مشکل ہے آقا کدھر جائیں ہم؟)
آپ ہی گر نہ لیں گے ہماری خبر
ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے
(آپ ہی گر نہ لیں گے ہماری خبر)
(ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے)
(تاجدارِ حرم)
(تاجدارِ حرم)
یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، اِرحم لنا، اِرحم لنا
دستِ ہمہ، بے چارہ را، داماں توئی، داماں توئی
من عاصیم، من عاجزم، من بیکسم، حالِ مِرا
پرساں توئی، پرساں توئی، پرساں توئی، پرساں توئی
اے مشک بید عنبر فشاں، پیکِ نسیمِ صبح دم
اے چارہ گر عیسیٰ نفس، اے مونسِ بیمارِ غم
اے قاسدِ فرخندہ پہ، تجھ کو اُسی گل کی قسم
إن نلت يا ريح الصّبا، يوماً إلى أرض الحرم
بلّغ سلامي روضةً، فيها النّبي المحترم
تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم
(تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم)
ہم غریبوں کے دن بھی سَنور جائیں گے
حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں
(حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں)
آپ کے در سے خالی اگر جائیں گے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم...
ڈوبے نہ کبھی میرا سفینہ لکھ دے
جنت بھی گوارا ہے مگر میرے لیے
اے کاتبِ تقدیر مدینہ لکھ دے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم
تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم
ہم غریبوں کے دن بھی سَنور جائیں گے
حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں؟
حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں؟
آپ کے در سے خالی اگر جائیں گے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
کوئی اپنا نہیں، غم کے مارے ہیں ہم
کوئی اپنا نہیں، غم کے مارے ہیں ہم
آپ کے در پہ فریاد لائے ہیں ہم
ہو نگاہِ کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم
ہو نگاہِ کرم ورنہ چوکھٹ پہ ہم
آپ کا نام لے-لے کے مر جائیں گے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
کیا تم سے کہوں اے عرب کے کنور
تم جانت ہو من کی بتیاں
در فرقت تو آئے امّی لقب
کاٹے نہ کٹتی اب رتیاں
توری پریت میں سدھ-بدھ سب بسری
کب تک رہے گی یہ بے خبری
گاہے بہ فگن دزدیدہ نظر
کبھی سن بھی تو لو ہماری بتیاں
آپ کے در سے کوئی نہ خالی گیا
(آپ کے در سے کوئی نہ خالی گیا)
آپ کے در سے کوئی نہ خالی گیا
اپنے دامن کو بھر کے سوالی گیا
(ہوو، اپنے دامن کو بھر کے سوالی گیا)
ہو حبیبِ حزیں...
ہو حبیبِ حزیں پر بھی آقا نظر
ورنہ اوراقِ ہستی بکھر جائیں گے
(ہو حبیبِ حزیں پر بھی آقا نظر)
(ورنہ اوراقِ ہستی بکھر جائیں گے)
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
مے کشو آؤ-آؤ، مدینے چلیں
(مدینے چلیں، مدینے چلیں، مدینے چلیں)
مے کشو آؤ-آؤ، مدینے چلیں
(مدینے چلیں، مدینے چلیں، مدینے چلیں)
آؤ مدینے چلیں، آؤ مدینے چلیں
اسی مہینے چلیں، آؤ مدینے چلیں
(آؤ مدینے چلیں، آؤ مدینے چلیں)
(اسی مہینے چلیں، آؤ مدینے چلیں)
تجلّیوں کی عجب ہے فضا مدینے میں
(تجلّیوں کی عجب ہے فضا مدینے میں)
نگاہِ شوق کی ہے انتہا مدینے میں
(نگاہِ شوق کی ہے انتہا مدینے میں)
غمِ حیات نہ خوفِ قضا مدینے میں
(غمِ حیات نہ خوفِ قضا مدینے میں)
نمازِ عشق کریں گے ادا مدینے میں
(نمازِ عشق کریں گے ادا مدینے میں)
براہِ راست ہے راہِ خدا مدینے میں
آؤ مدینے چلیں، آؤ مدینے چلیں
اسی مہینے چلیں، آؤ مدینے چلیں
مے کشو آؤ-آؤ، مدینے چلیں
(مے کشو آؤ-آؤ، مدینے چلیں)
دستِ ثاقیِ کوثر سے پینے چلیں
(دستِ ثاقیِ کوثر سے پینے چلیں)
یاد رکھو اگر، یاد رکھو اگر...
(یاد رکھو اگر، یاد رکھو اگر)
اٹھ گئی اک نظر
جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے
(یاد رکھو اگر، اٹھ گئی اک نظر)
وہ نظر، جتنے خالی ہیں سب جام بھر جائیں گے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
خوفِ طوفان ہے بجلیوں کا ہے ڈر
(خوفِ طوفان ہے بجلیوں کا ہے ڈر)
سخت مشکل ہے آقا کدھر جائیں ہم؟
(سخت مشکل ہے آقا کدھر جائیں ہم؟)
آپ ہی گر نہ لیں گے ہماری خبر
ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے
(آپ ہی گر نہ لیں گے ہماری خبر)
(ہم مصیبت کے مارے کدھر جائیں گے)
(تاجدارِ حرم)
(تاجدارِ حرم)
یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، اِرحم لنا، اِرحم لنا
دستِ ہمہ، بے چارہ را، داماں توئی، داماں توئی
من عاصیم، من عاجزم، من بیکسم، حالِ مِرا
پرساں توئی، پرساں توئی، پرساں توئی، پرساں توئی
اے مشک بید عنبر فشاں، پیکِ نسیمِ صبح دم
اے چارہ گر عیسیٰ نفس، اے مونسِ بیمارِ غم
اے قاسدِ فرخندہ پہ، تجھ کو اُسی گل کی قسم
إن نلت يا ريح الصّبا، يوماً إلى أرض الحرم
بلّغ سلامي روضةً، فيها النّبي المحترم
تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم
(تاجدارِ حرم ہو نگاہِ کرم)
ہم غریبوں کے دن بھی سَنور جائیں گے
حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں
(حامیِ بے کساں، کیا کہے گا جہاں)
آپ کے در سے خالی اگر جائیں گے
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم
تاجدارِ حرم...
Writer(s): Maqbool Ahmed Sabri Lyrics powered by www.musixmatch.com

