Safar Songtext
von Bayaan
Safar Songtext
او صنم، او جگر، تم کو ہو کیا ہی خبر
کیسے کٹی یہ راتیں ہیں
کہتے ہیں سب مگر، کوئی چلا نہ ان پر
رستے جو میں نے ناپے ہیں
کبھی ہے تاروں کی جھلمل
کبھی نہ دکھتی منزل
ایسا سفر میرا
میں بھاگا-بھاگا، صدیوں سے جاگا
آیا ہوں میلوں گاؤں سے
نہ ہمسفر کوئی، نہ اپنا گھر یارا
رہتا ہوں بہتی ناؤ پہ
دکھتے ہیں خواب جو جاگتی آنکھوں کو
سپنے نہیں، ارادے ہیں
پورے وہ کرنے کو چل پڑے ننگے پیروں
خود سے کیے جو وعدے ہیں
رکنا نہ کبھی بھی تھا حل
چلنا ہی تو ہے منزل
میں نہ کہیں ٹھہرا
میں بھاگا-بھاگا، صدیوں سے جاگا
آیا ہوں میلوں گاؤں سے
نہ ہمسفر کوئی، نہ اپنا گھر یارا
رہتا ہوں بہتی ناؤ پہ
میں بھاگا-بھاگا، صدیوں سے جاگا
آیا ہوں میلوں کر کے ارادہ
میں بھاگا-بھاگا، صدیوں سے جاگا
آیا ہوں میلوں کر کے ارادہ
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
شہر کی ہوا نے مجھ میں رنگ بھرے
میں بھولا سا پرانی تصویروں میں
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
دیکھ کے رب نے عزم، مجھے پر دیے
کہ اڑ سکوں بلند تقدیروں سے
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
شہر کی ہوا نے مجھ میں رنگ بھرے
میں بھولا سا پرانی تصویروں میں
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
دیکھ کے رب نے عزم، مجھے پر دیے
کہ اڑ سکوں بلند تقدیروں سے
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
شہر کی ہوا نے مجھ میں رنگ بھرے
میں بھولا سا پرانی تصویروں میں
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
دیکھ کے رب نے عزم، مجھے پر دیے
کہ اڑ سکوں بلند تقدیروں سے
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
شہر کی ہوا نے مجھ میں رنگ بھرے
میں بھولا سا پرانی تصویروں میں
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
دیکھ کے رب نے عزم، مجھے پر دیے
کہ اڑ سکوں بلند تقدیروں سے
کیسے کٹی یہ راتیں ہیں
کہتے ہیں سب مگر، کوئی چلا نہ ان پر
رستے جو میں نے ناپے ہیں
کبھی ہے تاروں کی جھلمل
کبھی نہ دکھتی منزل
ایسا سفر میرا
میں بھاگا-بھاگا، صدیوں سے جاگا
آیا ہوں میلوں گاؤں سے
نہ ہمسفر کوئی، نہ اپنا گھر یارا
رہتا ہوں بہتی ناؤ پہ
دکھتے ہیں خواب جو جاگتی آنکھوں کو
سپنے نہیں، ارادے ہیں
پورے وہ کرنے کو چل پڑے ننگے پیروں
خود سے کیے جو وعدے ہیں
رکنا نہ کبھی بھی تھا حل
چلنا ہی تو ہے منزل
میں نہ کہیں ٹھہرا
میں بھاگا-بھاگا، صدیوں سے جاگا
آیا ہوں میلوں گاؤں سے
نہ ہمسفر کوئی، نہ اپنا گھر یارا
رہتا ہوں بہتی ناؤ پہ
میں بھاگا-بھاگا، صدیوں سے جاگا
آیا ہوں میلوں کر کے ارادہ
میں بھاگا-بھاگا، صدیوں سے جاگا
آیا ہوں میلوں کر کے ارادہ
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
شہر کی ہوا نے مجھ میں رنگ بھرے
میں بھولا سا پرانی تصویروں میں
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
دیکھ کے رب نے عزم، مجھے پر دیے
کہ اڑ سکوں بلند تقدیروں سے
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
شہر کی ہوا نے مجھ میں رنگ بھرے
میں بھولا سا پرانی تصویروں میں
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
دیکھ کے رب نے عزم، مجھے پر دیے
کہ اڑ سکوں بلند تقدیروں سے
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
شہر کی ہوا نے مجھ میں رنگ بھرے
میں بھولا سا پرانی تصویروں میں
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
دیکھ کے رب نے عزم، مجھے پر دیے
کہ اڑ سکوں بلند تقدیروں سے
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
شہر کی ہوا نے مجھ میں رنگ بھرے
میں بھولا سا پرانی تصویروں میں
سفر لکھا ہاتھ کی لکیروں میں
نہ کھونے دیا خوابوں کو تعبیروں میں
دیکھ کے رب نے عزم، مجھے پر دیے
کہ اڑ سکوں بلند تقدیروں سے
Writer(s): Asfar Hussain Lyrics powered by www.musixmatch.com

