Milaap Songtext
von Bayaan
Milaap Songtext
نہ ہی ہوش نہ فکر نے کچھ کہا
نہ کتابوں نے بتائی جو تھی بات
پھر فراق کی نظر ہوا وصل
پھر شراب میں اتر گئی یہ رات
غلطیوں میں پلکیں بھی
خواہشوں کی بجھ سکے نہ آگ
تھک گیا ہوں جل کے بھی
روشنی میں ڈھل سکے نہ رات
گر کے بھی، سنبھل کے بھی
خود سے کیوں نہ ہو سکے ملاپ؟
دیکھا-دیکھا سا ہے عکس سامنے
شخص یہ میرے کبھی رہا تھا ساتھ
پھر گماں میرا ہے آئینہ شکن
پھر قرار بھی نہ تھامے میرا ہاتھ
نہ کتابوں نے بتائی جو تھی بات
پھر فراق کی نظر ہوا وصل
پھر شراب میں اتر گئی یہ رات
غلطیوں میں پلکیں بھی
خواہشوں کی بجھ سکے نہ آگ
تھک گیا ہوں جل کے بھی
روشنی میں ڈھل سکے نہ رات
گر کے بھی، سنبھل کے بھی
خود سے کیوں نہ ہو سکے ملاپ؟
دیکھا-دیکھا سا ہے عکس سامنے
شخص یہ میرے کبھی رہا تھا ساتھ
پھر گماں میرا ہے آئینہ شکن
پھر قرار بھی نہ تھامے میرا ہاتھ
Writer(s): Asfar Hussain, Shahrukh Aslam, Mansoor Lashari, Muqueet Shahzad, Haider Abbas Lyrics powered by www.musixmatch.com

