Sometimes Songtext
von AUR
Sometimes Songtext
چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں؟
چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں؟ کرتا گلے
کس نے بنائے ہیں یہ سلسلے؟
یہ شکوے رہے، ہم کہتے رہے
پر میری پکاریں تم سنتے نہ تھے
میں بے وجہ کی بے بسی میں پھستا جا رہا ہوں
میں اپنی ذمہ داریوں میں دھنستا جا رہا ہوں
میرے ساتھ جو چلے تھے وہ ستارے ڈھل چکے ہیں
یہاں چاند کی طرح اکیلا بس میں رہ گیا ہوں
میں سیاہ آسمان (میں سیاہ آسمان)
وہ بھی چاند کے بنا (وہ بھی چاند کے بنا)
جہاں تارے رو رہے ہیں (جہاں تارے رو رہے ہیں)
وہ بھی ٹوٹے بنا (وہ بھی ٹوٹے بنا)
میں چراغ جیسا ہوں (میں چراغ جیسا ہوں)
کر دوں روشن یہ جہاں (کر دوں روشن یہ جہاں)
میرے تلے ہیں اندھیرے (میرے تلے ہیں اندھیرے)
جس کی روشنی تو تھا (جس کی روشنی تو تھا)
میں لکھنے بیٹھوں جو پھر تو پھر پوری داستاں ہی لکھ دوں
میں لکھ دوں تیرا نام، میری داستاں ہی تھی تم
میری بات تم بس اگر ذرا سی بھی سمجھ جاتی
تو آج غزل نہیں، قلم تیری تصویریں بناتی
مجھے چھوڑ کر نہ جائے گی (مجھے چھوڑ کر نہ جائے گی)
یہ تنہائی مجھے کھائے گی (یہ تنہائی مجھے کھائے گی)
میری جان جا رہی ہے بس یہ سوچ سوچ کے
کہ میری جان، تو اب لوٹ کر نہ آئے گی
ملے درد بہت، پر کم ملے ہمدرد
کیا اتارو گے آنسو کے فرض؟
یا نبھاؤ گے وعدے وفا کے؟
یا بن جاؤ گے تم بھی خود غرض
Sometimes I feel like life is a curse
I wanna reverse, I won′t be alone, I don't wanna do
Didn′t know this shit get hurt so much
دل لگے نہ پھر ٹوٹنے کے بعد
تیرے ہاتھ میں تھا ہاتھ، اب حادثے بس یاد
گن-گن کے یہ تارے اب کٹتی ہے رات
تم یاد مجھے آئے بہت بھولنے کے بعد
تیرے بعد زندگی، تیرے بعد کیا سفر
بس کاٹنے کو دوڑتا ہے اب مجھے گھر
مجھے خود کا نہ ہوش، مجھے تیری فکر
نہیں آتا ہے تو، نہ ہی تیری خبر
بدلی سی لگتی ہے اب زندگی
ساتھ سب ہے، بس ایک ساتھ تو ہی نہیں
تنہائیوں میں بسا لوں میں خود کو
جو چھپ جاؤں، تجھ کو دکھوں ہی نہیں
سب سے الگ تھی، تو سب سے جدا
نکلی پتھر، تھا تجھ کو تو سمجھا خدا
جب سے پسند تھی تجھے روشنی
تو تب سے ہی جاناں میں جلتا رہا
ملنے سے پہلے ملنے کی باتیں
جل پریوں سے ہر پل بھر کی باتیں
دل ٹوٹا تھا میرا، کب کی بات ہے؟
پہلے سب ہی تو تھی، اب سب کے بعد ہے
رکھتا ہوں تیری تصویریں سرہانے میں
گھر کو بدل دوں گا اپنے میخانے میں
ملیں گے کیسے ہم خدا ہی جانے
رگوں میں محبت بھی ڈالی خدا نے
خدا کے طریقے پہ ہم چل پڑے، یہاں در بڑے
چاہتا تھا تجھ کو کوئی غم نہ ملے، پر غم ہی ملے
پہلے کرتی تھی مجھ سے تو کتنے گلے، اب کر نا گلے
اب ڈھونڈے ہمیں تو اور ہم نہ ملیں، شاید ہم نہ ملیں
(چاہتا تجھے غم نہ ملیں)
(پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے)
(ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی)
(پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں)
(کیوں ہم نہ ملیں؟)
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں؟
چاہتا تجھے غم نہ ملیں
پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے
ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی
پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں
کیوں ہم نہ ملیں؟ کرتا گلے
کس نے بنائے ہیں یہ سلسلے؟
یہ شکوے رہے، ہم کہتے رہے
پر میری پکاریں تم سنتے نہ تھے
میں بے وجہ کی بے بسی میں پھستا جا رہا ہوں
میں اپنی ذمہ داریوں میں دھنستا جا رہا ہوں
میرے ساتھ جو چلے تھے وہ ستارے ڈھل چکے ہیں
یہاں چاند کی طرح اکیلا بس میں رہ گیا ہوں
میں سیاہ آسمان (میں سیاہ آسمان)
وہ بھی چاند کے بنا (وہ بھی چاند کے بنا)
جہاں تارے رو رہے ہیں (جہاں تارے رو رہے ہیں)
وہ بھی ٹوٹے بنا (وہ بھی ٹوٹے بنا)
میں چراغ جیسا ہوں (میں چراغ جیسا ہوں)
کر دوں روشن یہ جہاں (کر دوں روشن یہ جہاں)
میرے تلے ہیں اندھیرے (میرے تلے ہیں اندھیرے)
جس کی روشنی تو تھا (جس کی روشنی تو تھا)
میں لکھنے بیٹھوں جو پھر تو پھر پوری داستاں ہی لکھ دوں
میں لکھ دوں تیرا نام، میری داستاں ہی تھی تم
میری بات تم بس اگر ذرا سی بھی سمجھ جاتی
تو آج غزل نہیں، قلم تیری تصویریں بناتی
مجھے چھوڑ کر نہ جائے گی (مجھے چھوڑ کر نہ جائے گی)
یہ تنہائی مجھے کھائے گی (یہ تنہائی مجھے کھائے گی)
میری جان جا رہی ہے بس یہ سوچ سوچ کے
کہ میری جان، تو اب لوٹ کر نہ آئے گی
ملے درد بہت، پر کم ملے ہمدرد
کیا اتارو گے آنسو کے فرض؟
یا نبھاؤ گے وعدے وفا کے؟
یا بن جاؤ گے تم بھی خود غرض
Sometimes I feel like life is a curse
I wanna reverse, I won′t be alone, I don't wanna do
Didn′t know this shit get hurt so much
دل لگے نہ پھر ٹوٹنے کے بعد
تیرے ہاتھ میں تھا ہاتھ، اب حادثے بس یاد
گن-گن کے یہ تارے اب کٹتی ہے رات
تم یاد مجھے آئے بہت بھولنے کے بعد
تیرے بعد زندگی، تیرے بعد کیا سفر
بس کاٹنے کو دوڑتا ہے اب مجھے گھر
مجھے خود کا نہ ہوش، مجھے تیری فکر
نہیں آتا ہے تو، نہ ہی تیری خبر
بدلی سی لگتی ہے اب زندگی
ساتھ سب ہے، بس ایک ساتھ تو ہی نہیں
تنہائیوں میں بسا لوں میں خود کو
جو چھپ جاؤں، تجھ کو دکھوں ہی نہیں
سب سے الگ تھی، تو سب سے جدا
نکلی پتھر، تھا تجھ کو تو سمجھا خدا
جب سے پسند تھی تجھے روشنی
تو تب سے ہی جاناں میں جلتا رہا
ملنے سے پہلے ملنے کی باتیں
جل پریوں سے ہر پل بھر کی باتیں
دل ٹوٹا تھا میرا، کب کی بات ہے؟
پہلے سب ہی تو تھی، اب سب کے بعد ہے
رکھتا ہوں تیری تصویریں سرہانے میں
گھر کو بدل دوں گا اپنے میخانے میں
ملیں گے کیسے ہم خدا ہی جانے
رگوں میں محبت بھی ڈالی خدا نے
خدا کے طریقے پہ ہم چل پڑے، یہاں در بڑے
چاہتا تھا تجھ کو کوئی غم نہ ملے، پر غم ہی ملے
پہلے کرتی تھی مجھ سے تو کتنے گلے، اب کر نا گلے
اب ڈھونڈے ہمیں تو اور ہم نہ ملیں، شاید ہم نہ ملیں
(چاہتا تجھے غم نہ ملیں)
(پر چاہتوں پہ چلتے نہ یہ سلسلے)
(ملنے کی خواہش تھی تجھ سے کبھی)
(پر کرتا دعا ہوں کہ ہم نہ ملیں)
(کیوں ہم نہ ملیں؟)
Writer(s): Ahad Khan, Raffey Anwar, Usama Ali Lyrics powered by www.musixmatch.com
